بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی انقلاب کے رہبرِ شہید، آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، نہ صرف ایرانی عوام بلکہ تمام احرارِ عالَم کے لئے بھی متاثر کن اور ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔ اسی بنیاد پر، بہت سی آزاد بین الاقوامی شخصیات نے اُن کی شہادت کے موقع پر ویڈیو بیانات جاری کئے۔ جن میں سے ایک آسٹریلوی پروفیسر ٹِم اینڈرسن (Prof. Tim Anderson) ہیں جو کہتے ہیں:
سلام!
رہبر شہید امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) ایران کے مرحوم رہبر، کے بارے میں تجزیہ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، نہ صرف ایرانی اور مسلمان بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی اُن سے محبت کرتے تھے اور اُن کا سوگ منا رہے ہیں۔ میں کچھ ایسے موضوعات کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جن کے ساتھ میں اُنہیں اور اُن کے ورثے کو یاد رکھتا ہوں:
• مضبوط اصولوں پر قائم رہنا:
وہ اقدار جو نہ صرف اسلامی بلکہ انسانیت پسندانہ بھی ہیں اور جنہیں ثقافتی فرقوں سے بالاتر ہو کر سمجھا جا سکتا ہے۔ اُنھوں نے اپنی طویل صدارت اور طویل مدتی قیادت ـ دونوں ادوار میں ـ اس بات کو یقینی بنایا کہ ایران اپنے عوام اور اپنے ملک کے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ ایران کی انسانی وسائل کی بے پناہ ترقی کے اشاریوں میں بڑی پیش رفت کی وجہ بھی یہی ہے؛ جیسا کہ مثلاً اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے 1990 کی دہائی کے بعد سے، ـ خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ـ ریکارڈ کیا ہے؛ اور یہ امریکہ کے ماتحت ایرانی بادشاہت کے دور میں ترقی کے بہت کمزور اشاریوں کے طویل دور کے بعد وقوع پذیر ہؤا ہے، ایسی بادشاہت جو درحقیقت ایک برطانوی طرز کی حکومت تھی۔ چنانچہ ایران کے عوام پر سرمایہ کاری اسلامی جمہوریہ کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
• مُدَبِّرانَہ قیادت:
یقیناً سید علی [خامنہ ای] کے رہبر کے طور پر منتخب کئے جانے سے پہلے، 'جنگ کے دور میں صدارت' کا تجربہ تھا۔ نتیجتاً، اُس دور کے اسباق نے، اُن کی مذہبی تعلیمات کے ساتھ مل کر، اُنہیں ایک جامع نقطۂ نظر کا مالک بنایا تھا۔ چنانچہ وہ دوسروں کی ہدایت و رہنمائی میں بھی ثابت قدم تھے اور قاسم سلیمانی اور سید حسن نصراللہ سمیت بہت سے بڑے کمانڈروں کی تربیت کی۔ نیلسن منڈیلا اور فیڈل کاسترو سمیت دنیا کے بہت سے دوسرے بڑے انسانیت پسندوں نے بھی اُن کے اس طرزِ قیادت کی تعریف کی۔ یہ لوگ اُن کی میراث اور دوسرے کمانڈروں کے رہنما اور مربی کے طور پر اُن کے کردار کی ستائش کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ